ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عدالت عظمیٰ کی کھٹر کی ’کھٹارہ سرکا ر‘ کی گوشمالی ، آپ قانون کی حکمرانی سے بالا نہیں : عدالت عظمیٰ 

عدالت عظمیٰ کی کھٹر کی ’کھٹارہ سرکا ر‘ کی گوشمالی ، آپ قانون کی حکمرانی سے بالا نہیں : عدالت عظمیٰ 

Sat, 02 Mar 2019 11:11:38    S.O. News Service

نئی دہلی، 2 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اراولی میں تعمیر کی منظوری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ہے۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے کھٹر حکومت کو پھٹکار لگائی اور کہا کہ احکامات کے خلاف نیا قانون لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں۔سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حماقت کرنے پر آپ کے خلاف توہین کا کیس چلے گا۔جسٹس ارون مشرا کی قیادت والی بنچ نے ہریانہ حکومت کو پھٹکارتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم نہیں ہیں، قانون کی حکمرانی ہی بہت سخت ہے۔کورٹ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ جنگل کو تباہ کر رہے ہیں اور یہ مناسب نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ اس قانون کے ذریعہ ہریانہ حکومت اراولی اور یوکلپٹس کی پہاڑیوں میں جنگل قوانین کو طاق پر رکھ کر کئے گئے غیر قانونی تعمیر کو منظوری دینے کا راستہ صاف کر رہی ہے۔کورٹ نے کہا کہ اس نئے قانون کے ذریعہ آپ اپنے چہیتے افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا ہے، یہ ’’سنگین ‘‘معاملہ ہے۔بتا دیں کہ اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ نے غیر قانونی کانکنی کے سبب راجستھان کے اراولی علاقے سے 31 پہاڑیاں ناپید ہونے پر حیرانی ظاہر کی تھی۔سپریم کورٹ نے راجستھان میں اراولی کی پہاڑیوں پر اندھا دھند کان کنی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے 48 گھنٹوں میں کان کنی روکنے کو کہا تھا۔سماعت کے دوران جسٹس مدن بھیم راؤ لوکر نے کہا تھا کہ رپورٹ کے مطابق دہلی، راجستھان اور ہریانہ کی حد والے علاقوں سے 31 پہاڑ غائب ہو گئے ہیں۔دیو مالائی عقائد کے تحت آخر عوام میں تو ہنومان کی طاقت نہیں آسکتی کہ وہ پہاڑ ہی لے اڑے،ایسے میں اس کی وجہ صرف اور صرف غیر قانونی کانکنی ہی ہے۔کورٹ کے پوچھنے پر راجستھان حکومت نے بھی یہ مانا تھا کہ اراولی میں 115.34 ہیکٹر زمین پر کان کنی ہوئی۔


Share: